بنگلورو،28؍نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے اثاثہ ٹیکس پر پندرہ فیصد تک کا کچرا ٹیکس لاگو کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے آج بی بی ایم پی کونسل اجلاس کے دوران بی جے پی نے بی بی ایم پی صدر دفتر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریاستی حکومت کی ہدایت پر بی بی ایم پی نے اثاثہ ٹیکس کے ساتھ پندرہ فیصد کا کچرا ٹیکس وصول کرنے کی پہل کی ہے۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس ٹیکس کو منسوخ کیا جائے۔ کارپوریٹروں نے حکومت کی طرف سے لاگو کئے گئے اس ذیلی ٹیکس کو واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی اور کہاکہ اس سے عوام کو دن دھاڑے لوٹا جارہا ہے۔ احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے بی بی ایم پی کی اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے کہاکہ اثاثہ ٹیکس پر پندرہ فیصد کچرا ٹیکس کے نام پر لاگو کیا گیا ذیلی ٹیکس عوام پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔ ریاستی حکومت کی اس عوام دشمن پالیسی کی شدید مخالفت کی جانی چاہئے۔ ایک طرف بجلی اور پانی کی شرحوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ اسی دوران اثاثہ ٹیکس کے ساتھ مزید پندرہ فیصد کچرا ٹیکس ادا کرنے کا فیصلہ بدبختانہ ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی 2011میں اس طرح کا کچرا ٹیکس لاگو کیا گیا تھا لیکن اسے بعد میں ہٹاد یا گیا، اب پندرہ فیصد اضافہ کرنے کے فیصلے سے عوام کو کافی پریشانی ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا اور وزیر ترقیات بنگلور کے جے جارج اس طرح کا ٹیکس لاگو کرتے ہوئے عوام کو لوٹے رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس ٹیکس کو رد کیا جائے۔